ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / ایودھیا معاملے پر عدلیہ پر دباؤ اوردھمکیاں دی جارہی ہیں ، منگلور میں سابق جسٹس ناگ موہن داس کا خطاب

ایودھیا معاملے پر عدلیہ پر دباؤ اوردھمکیاں دی جارہی ہیں ، منگلور میں سابق جسٹس ناگ موہن داس کا خطاب

Sun, 02 Dec 2018 01:53:31    S.O. News Service

بنگلور :یکم دسمبر (ایس اونیوز) ایودھیا معاملے پر عدلیہ پر دباؤاور دھمکیاں دی جارہی ہیں ،عدلیہ پر اس بات کابھی دباو ڈالا جارہاہے کہ ان کے حق میں فیصلے سنائے جائیں ، یہ بات ریٹائرڈ جسٹس ناگ موہن داس نے کہی ۔ وہ یہاں منگلور میں منعقدہ جنانڈی پروگرام میں خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں مذہبی انسانی وتہذیبی ملک میں ایک دوسرے سے پیار و محبت کے ساتھ زندگی بسر کرنا ضروری ہے ۔ اس کے برعکس ملک کے باشندوں پر مذہب ، زبان ، کلچر ، غذائی عادتوں اور کپڑوں سے متعلق فرمان جاری کرناتشویشناک اور خطرناک بات ہے ، اور آج ہم لوگ اسی دورسے گذررہے ہیں ۔ زبردستی یک طرفہ تہذیب کے ذریعہ غیر جمہوری طاقتیں ملک کے عوام کی زندگی پر کنٹرول کرناچاہتی ہیں ،اور برسراقتدار پارٹی اس کی حمایت کررہی ہے ۔ جو ملک کے لیے خطرناک ہے ۔

جسٹس داس نے واضح طور پر کہاکہ جب غیر جمہوری طاقتوں نے مسلمانوں ، دلتوں اور عیسائیوں پر حملے کئے تو عوام خاموش رہے ، جس کے نتیجے میں آج یہ لوگ دستور پر حملے کی جرات کررہے ہیں ۔ ہمارے دستور نے بھائی چارے کی تعلیم دی ہے ، جس میں انسان کو جلانے کی گنجائش نہیں ہے ، اور یہ جمہوریت مخالف طاقتیں ملک میں افراتفری کا ماحول پیدا کرناچاہتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ  آج اہم دستوری اداروں کو تباہ کرنے کی کوشش ہورہی ہے ، مخالفین کی آوازوں کو دبانے کے لیے اقتدار کاغلط استعمال کیاجارہاہے ، جس سے ایسا محسوس ہورہاہے کہ ہم لوگ غیر معینہ ایمرجنسی میں زندگی بسر کررہے ہیں ۔ جسٹس داس نے کہاکہ ان لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ تاریخ مسخ کرکے تاریخ رقم نہیں کی جاسکتی ۔ عوام نے تاریخ فراموش کرنے والوں کو پہلے بھی سبق سکھایا ہے اور آئندہ بھی سبق سکھائیں گے ۔

انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیاکہ ملک میں معاشی وسماجی دہشت گردی کے ذریعہ عدم مساوات کو فروغ دیاجارہاہے ۔ آج جس طرح پارلیمانی نظام تباہی کے دہانے پر آگیاہے ، اسے دور کرنے کے لیے عوام پرور اور دستور کا احترام کرنے والوں کو پارلیمان کے لیے منتخب کرنا ضروری ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ دولت جمع کرنے والوں کی حکومت حمایت کررہی ہے اور عوامی دولت کی حفاظت کا ذمہ رکھنے والی بینکوں کے ذریعہ بھگوڑوں کی حمایت ہورہی ہے ۔ نہ صرف ریزروبینک اور سی بی آئی بلکہ محکمہ انکم ٹیکس کا بھی غلط استعمال کیاجارہاہے ۔ ان کا استعمال اپوزیشن کو ختم کرنے کے لیے کیاجارہاہے ۔ اگر ملک میں معاشی وسماجی دہشت گردی پر روک نہیں لگائی گئی تو ملک کے حالات تباہ ہوسکتے ہیں ۔ تب ملک بنیادپرستوں اور فرقہ پرستوں کے ہاتھ میں جاسکتا ہے ، ایسے میں عوام کو چاہئے کہ وہ ملک پر چھائے ہوئے خطرات کے بادل سے بچنے کی تدابیر کریں ۔

معروف فلم اداکار پرکاش راج نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وہ کسی مذہب کی بنیاد پر ہونے والی سیاست کے مخالف ہیں ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کسی مذہب کے خلاف ہیں ، مگر ہماری یہ باتیں ان لوگوں کوسنائی نہیں دیتی ہیں ،یہی ان کے لیے افسوسناک بات ہے ،انہوں نے کہاکہ کیرلا میں مرکزی حکومت کا ایک فرد برسرعام کہتا ہے کہ سبری ملاجیسے جذباتی معاملے کو بھرپور استعمال کرتے ہوئے کیرلا میں پارٹی کو مضبوط بنایاجائے ، جس سے اس جماعت کی شاطر ذہنیت کا اندازہ ہوتاہے ۔ انہوں نے بتایا کہ سب کچھ معلوم ہونے کے باوجود ہم کیوں خاموش ہیں ، جبکہ مذہب اور ان کے عقائد ورسومات ان کا ذاتی معاملہ ہے ۔ اس سے نہ تو روز گار مل سکتا ہے اور نہ بھوک مٹ سکتی ہے ، نہ ہی اس کے ذریعے بچوں کو تعلیم فراہم ہوسکتی ہے ۔ ان حقائق سے سب واقف ہیں ۔ ایسے میں ہمیں چاہئے کہ جھوٹ کے سہارے زندگی بسر کرنے والوں سے ہوشیار رہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ اگر شرپسندی وشدت پسندی میں اضافہ ہوجائے توقدرت اسے برداشت نہیں کرتی، بلکہ انسانیت کوفروغ دینے وائرس جنم دے گی ۔ ان کے جلسوں میں داخل ہوکر ان کے خلاف نعرے بلند کرنے کی کوششوں میں اضافہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہ لوگ پولیس کی برہمی کا سامنا کررہے ہیں ۔ ایسے میں انہیں معلوم ہواکہ آج بھی یہ لوگ یہاں آئے ہوئے تھے اورپولیس نے انہیں منتشر کردیا۔ اگر انہیں پہلے ہی سے ان کی آمد کا اندازہ ہوتا تو وہ خود پولیس سے درخواست کرتے کہ وہ انہیں اندر آنے دیں ، کیونکہ وہ ان سے بات چیت کرنے کے خواہاں تھے۔ کیونکہ وہ کسی سے نفرت نہیں چاہتے اور انہیں جھگڑا کرنا بھی نہیں آتا ، انہیں مذاکرات کرنے آتے ہیں ، مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ لوگ سننے کے لیے تیار نہیں رہتے ۔

اس موقع پر دلت لیڈر ایم دیوداس نے کہا کہ جمہوری نظام میں دستور کو کافی اہمیت حاصل ہے ، آج ہم تمام لوگ اسی دستور کے تحت زندگی بسر کررہے ہیں ۔ ڈاکٹر حسینہ قادری نے کہا ملک میں بھائی چارے اور ہم آہنگی کے لیے غلط فہمیوں کا ازالہ ضروری ہے۔

صداتی   خطاب کرتے ہوئے ونیاوکندا نے کہاکہ آج حق رائے کی آزادی خطرے میں ہے ، مخالف آوازوں کو دبانے کی کوشش ہورہی ہیں ۔ آج ہم ایسے ماحول میں ہیں کہ عصمت ریزی ، حملوں اور مظالم کو فطری واقعات قرار دیاجارہاہے ، موجودہ تعلیمی نظام نوجوانوں میں دستور سے متعلق بیداری پیدا کرنے میں ناکام ہوچکا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں انتخابی کامیابی کے لیے میڈیا کو خرید کراشتہارات دینا ایک سیاسی ہتھیار بنالیاگیاہے ۔ ترقی پسند مفکر جی راج شیکھر نے بتایا کہ ملک کو سرمایہ کار لوٹ رہے ہیں ، اور مظلوم طبقات کی جدوجہد سے ہی اس پر روک لگائی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہر شخص اپنی ذہانت کے ساتھ سماجی ذمہ داریاں بنھاسکتا ہے ، اور ملک میں محنت کسی کی ہے مگر کوئی اور آرام دہ زندگی بسر کررہاہے ۔ اور ملک کے وسائل کی تقسیم میں امتیاز برتاجارہاہے ، سرمایہ دار نہ نظام کمزور طبقات کا مسلسل استحصال کررہاہے اور انہیں دھوکہ دے رہاہے ۔


Share: